اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی نوجوانوں کو پھانسی دینا اسرائیل کے نسل کشی کے منصوبے کا حصہ ہے. فلسطینی اسلامی مزاحمت (حماس) نے جمعرات کی شب ایک بیان میں صہیونی فوج کے ہاتھوں مغربی کنارے میں دو فلسطینی نوجوانوں کو پھانسی دیے جانے پر ردعمل کا اظہار کیا اور اس کی شدید مذمت کی۔

حماس نے جنین میں دو نوجوانوں کی شہادت اور فلسطینی قوم کے تمام شہداء کی تعزیت پیش کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے نسل کشی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے.

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جرم کوئی تازہ بات نہیں ہے بلکہ نسل کشی اور منظم ننسلی تصفیے کی ایک نئی کڑی ہے.

حماس کے بیان میں آیا ہے کہ قابض حکومت اس اقدام کے ذریعے مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو نشانہ بناکر جبری بے دخلی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے.