ابوجا : نائیجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے 24 مغوی اسکولی طالبات کی بحفاظت رہائی کی تصدیق کی ہے جنہیں مشتبہ دہشت گردوں نے 17 نومبر کو ایک سرکاری اسکول کے ہاسٹل سے اغوا کیا تھا۔

صدر تینوبو نے کل رات دیر گئے ایک بیان میں کہا، ”مجھے تسلی ہوئی ہے کہ تمام 24 طلبہ کو بحفاظت واپس کردیا گیا ہے۔” حکومتی عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ لڑکیاں صحت مند ہیں اور جلد ہی ان کے خاندانوں کے ساتھ مل جائیں گی۔

حکام کے مطابق حملہ آور جنہوں نے اسکول پر دھاوا بولا، وہ عملے کے دو ارکان کو ہلاک اور طلباء کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کی رہائی کا عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ صدر نے سیکورٹی فورسز کی “تیز کارروائی” کی بھی تعریف کی۔

یہ اغوا گزشتہ ہفتے ملک کے وسطی حصے میں ایسے ہی کئی واقعات کے بعد ہوا ہے۔ ان میں ایک چرچ سے 38 نمازیوں اور نائیجر کے ایک اسکول سے 300 سے زائد طلباء کا اغوا شامل ہے۔ ان میں سے نمازیوں اور 51 طلباء کو اتوار کو رہا کر دیا گیا۔ نائیجیریا گزشتہ ایک دہائی سے بڑے پیمانے پر اغوا کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ 2014 میں چیبوک سے 276 لڑکیوں کے اغوا کے بعد سے اب تک 1500 سے زیادہ سکول کے بچے اغوا ہو چکے ہیں۔

اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر صدر ٹِنوبو نے جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کے لیے اپنا دورہ منسوخ کردیا تھا اور ملک میں سکیورٹی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔