غدیر یعنی اعلان خلافت علی ابن ابی طالب علیہ السلام

نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے بعد جب مکہ سے واپس مدینہ کی جانب سفر شروع کیا، تو راستے میں “غدیر خم” نامی مقام پر حکمِ خداوندی کے تحت قافلہ کو روک کر ہزاروں حاجیوں کو جمع کیا۔

یہ مقام پانچ راستوں کا چوراہا تھا اور یہاں ایک چھوٹا سا تالاب (غدیر) تھا، اس لیے اسے “غدیر خم” کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ کی آیت 67 نازل کی:

“يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ…”
(اے رسول! پہنچا دیجئے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے…)
[مائدہ 5:67]

یہ آیت درحقیقت ایک انتباہ تھا کہ اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا رسالت کا مشن ادھورا رہ جائے گا۔

🌟 اعلانِ ولایت کا واقعہ:
گرمی کا شدید دن تھا، صحابہ کرام اپنے اپنے اونٹوں کی پالانوں پر بیٹھے تھے، نبی ﷺ نے ایک منبر کے مانند کچھ اونٹوں کے پالان رکھوا کر اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، جس میں فرمایا:

“ألست أولى بكم من أنفسكم؟”
(کیا میں تمہارے نفسوں سے زیادہ تم پر حق نہیں رکھتا؟)

سب نے کہا: “بلا یا رسول اللہ” (کیوں نہیں)

تب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا:

“من كنت مولاه فهذا علي مولاه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه…”
(جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی بھی مولا ہے۔ اے اللہ! اس سے دوستی رکھ جو علی سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے…)

رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی نے بارہا غدیر کو فقط ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک الہی منصوبہ اور نظامِ حکومتِ اسلامی کا اعلان قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق غدیر کی اہمیت امامت کے نظریہ کو جڑ سے جوڑتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب دین مکمل ہوا، چنانچہ اس کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی:

“…اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام ديناً”
[مائدہ 5:3]

رہبر معظم فرماتے ہیں کہ غدیر میں نبی ﷺ نے صرف ولایت علیؑ کا اعلان نہیں کیا بلکہ قیادت کے معیار اور اصول کا اعلان فرمایا — یعنی کہ قیادت وہی کرے جو معصوم ہو، علم کامل رکھتا ہو، عدل کا علمبردار ہو اور وحی کا وارث ہو۔

کتاب “250 سالہ انسان” میں رہبر معظم نے آئمہ اہل بیتؑ کی زندگی کو ایک مسلسل تحریک قرار دیا ہے جو امامت کے نظام کی حفاظت و ترویج کے لیے کام کرتی رہی۔ اس کتاب کے ابتدائی ابواب میں غدیر کو بنیاد بنا کر واضح کیا گیا ہے کہ امامت ایک الہی ادارہ ہے نہ کہ سیاسی فیصلہ۔ رہبر معظم لکھتے ہیں:

“غدیر فقط علیؑ کی فضیلت کا بیان نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل سیاسی، الہی اور سماجی نظام کا اعلان تھا، تاکہ امت محمدیؐ گمراہی سے بچی رہے۔”

کتاب میں یہ بھی بیان ہے کہ آئمہؑ نے 250 سال کے دوران اسی نظام امامت کے دفاع میں قربانیاں دیں، تاکہ امت کو اصل راستہ دکھایا جا سکے۔ غدیر کا پیغام ان کی تحریک کا نقطہ آغاز تھا۔

🔥 اس الہی فریضے کی انجام دہی کا مقصد:
اسلامی قیادت کا تعین – تاکہ امت کو خلافت و حکومت کے معاملے میں اشتباہ نہ ہو۔

دین کی تکمیل – جیسے کہ سورہ مائدہ کی آیت میں اعلان ہوا کہ دین مکمل ہوا۔

فتنوں کا سدباب – بعد میں آنے والے انحرافات کا جواب اسی دن دیا گیا تھا۔

حق کا واضح اعلان – تاکہ قیامت تک مسلمان حق و باطل میں تمیز کر سکیں۔

غدیر محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ اسلام کی روح ہے۔ یہ واقعہ امامت کے اصول، ولایت کی حقیقت، اور دین کے نظامِ رہبری کو واضح کرتا ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی روشنی میں غدیر امت کی شناخت کا ستون ہے، اور کتاب “250 سالہ انسان” اس ستون کو آئمہ کی 250 سالہ جدوجہد سے جوڑتی ہے۔