ایران کی جغرافیائی حیثیت بڑی اہم اور اسٹریٹیجک ہے۔ ایران کی سرحدیں 7 ممالک سے ملتی ہیں، اور یہ خلیج فارس اور بحیرہ کیسپین (کیس پین سی) کے درمیان واقع ہے۔

ایران کی زمینی سرحدیں درج ذیل ممالک سے ملتی ہیں:

1. عراق – مغرب میں

2. ترکی – شمال مغرب میں

3. آرمینیا – شمال میں

4. آذربائیجان – شمال میں (دو حصے: مین لینڈ اور نخچیوان کا الگ علاقہ)

5. ترکمانستان – شمال مشرق میں

6. افغانستان – مشرق میں

7. پاکستان – جنوب مشرق میں

سمندری سرحدیں

1. خلیج فارس (Persian Gulf) – جنوب مغرب میں

2. بحر عمان (Gulf of Oman) – جنوب میں

3. بحیرہ کیسپین (Caspian Sea) – شمال میں

ایران کی اس اسٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے یہ ملک ہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، خصوصاً تیل، گیس، اور عسکری لحاظ سے۔

یہ جاننے کے بعد دو نہایت اہم سوال ذہن میں آتے ہیں کہ
“اسرائیل ایران سے کتنی دور ہے؟
اور اسرائیل کہاں سے حملے کر رہا ہے؟”

یہ سوال صرف جغرافیائی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک، خفیہ آپریشنز، اور دفاعی ٹیکنالوجی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

” اسرائیل اور ایران کے درمیان فاصلہ”

فضائی فاصلہ (Aerial Distance)
تقریباً 1,000 سے 1,600 کلومیٹر (تقریباً 620 سے 990 میل)
(شہر سے شہر فرق ہوگا مثلاً تل ابیب سے تہران)

یہ فاصلہ اتنا ہے کہ براہِ راست جنگی طیارے بغیر ری فیولنگ کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ اس لیے اسرائیل کو دیگر راستے اور ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

اسرائیل کہاں سے حملے کرتا ہے؟

1. خفیہ فضائی راستے (Air Routes via Third Countries):

آذربائیجان یا کردستان عراق جیسے ممالک کی ایئربیسز کو اسرائیل خفیہ طور پر استعمال کر سکتا ہے (غیر مصدقہ رپورٹس)۔

سعودی عرب نے خاموشی سے اسرائیلی پروازوں کو کچھ وقت کے لیے فضائی راستہ دیا، خاص طور پر ایران پر نظر رکھنے کے لیے۔

2. ڈرون حملے اور سائبر وار

اسرائیل ڈرونز، میزائلز اور سائبر حملوں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات یا فوجی مراکز کو نشانہ بناتا ہے۔

Stuxnet وائرس (2010) ایک مشہور مثال ہے جو ایران کے نیوکلیئر سسٹمز کو ہیک کرنے کے لیے اسرائیل و امریکہ نے تیار کیا تھا۔

3. موساد کے زمینی آپریشنز:

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے ماضی میں ایران کے اندر جاسوسی، قتل اور تخریب کاری کے مشن کیے ہیں۔

2020 میں ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل اسی قسم کی کارروائی تھی۔

4. بحری راستہ / آبدوزیں

اسرائیل کی آبدوزیں خلیج فارس یا بحر عمان میں خفیہ طور پر گشت کرتی ہیں، جو Iranian oil tankers یا بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر براہِ راست حملے نہیں کرتا جیسے روایتی جنگ ہو، بلکہ وہ ڈرونز، خفیہ ایجنسیوں، سائبر حملوں، اور پراکسی راستوں کے ذریعے کارروائی کرتا ہے۔

فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی اتحادیوں کی وجہ سے اسرائیل اپنی رسائی ایران تک بنا چکا ہے۔

عالمی امن کے لئے دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم