جواب کلام معصوم ص سے

🔹 رُوي أنّه قيل للإمام الصادق (عليه السلام): سيّدي، جُعلتُ فداك، إنّ الميّت يجلسون له بالنياحة بعد موته أو قتله، وأراكم تجلسون أنتم وشيعتكم من أوّل الشهر بالمأتم والعزاء على الحسين (عليه السلام)!

فقال (عليه السلام): «يا هذا، إذا هلّ هلال محرّم نشرَت الملائكة ثوب الحسين (عليه السلام) وهو مخرّقٌ من ضرب السيوف وملطَّخٌ بالدماء، فنراه نحن، وشيعتُنا بالبصيرة لا بالبصر، فتنفجر دموعنا».

مولا امام صادق علیہ السّلام سے روایت ہے. کہ مولا ص سے پوچھا گیا یا سیدی میں آپ کا فدیہ قرار پاؤں کہ کسی میت پر اس کے مرنے یا قتل ہونے کے بعد اظہار افسوس کےلیے تو بیٹھا جاتا ہے
لیکن آپ ص اور آپ ع کے شیعہ یکم محرم سے مولا حسین علیہ السلام پر ماتم و عزا کےلیے بیٹھ جاتے ہو
مولا ص نے فرمایا. جب محرم کا چاند نظر آتا ہے تو ملائکہ مولا حسین علیہ السّلام کا لباس پھیلا دیتے ہیں جو تلواروں کی ضربوں سے چھلنی اور خون میں لت پت ہوتا ہے.
پس ہم ص اور ہمارے شیعہ بصیرت سے اس لباس کو دیکھتے ہیں ناکہ عام آنکھ سے
اور ہمارے آنسو جاری ہوجاتے ہیں.

ثمرات الاعواد ص 36