زیارتِ امام حسینؑ میں تین طبقوں پر لعنت کی گئی ہے
۱) قاتلین
۲) ظالمین
۳) خاموش طبقہ
تیسرا طبقہ لاتعلق لوگوں کا ہے جنہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اب اگر وہ لوگ دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں تب بھی لعنت انکا مقدر اور اگر وہ نمازی، پرہیز گار، حاجی، پارسا، مقدس نما علماء ہیں تب بھی لعنت انکا مقدر ہے۔
ابو موسیٰ اشعری تاریخ کی بہترین مثال جس نے جنگِ جمل میں کہا تھا کہ “ایک طرف خلیفہ رسولؐ اور دوسری طرف زوجہِ رسولؐ ہیں تو اس حالت میں بہتر ہے کہ اگر آپ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں اور بیٹھے ہوئے کا لیٹ جانا اُس سے بھی افضل اور لیٹے ہوئے کا سو جانا اِس سے بھی افضل ہے”
اور قیامت تک ابو موسیٰ اشعری پر اور لاتعلق لوگوں کے گلے میں لعنت کا طوق پڑ گیا اور آخرت میں خدا کا عذاب انکی تقدیر بن گیا۔
سید الشھداء امام حسینؑ کا ساتھ نہ دینے والے خاموش لوگوں پر بی بی ذینبؑ نے لعنت کی امام سجادؑ نے لعنت کی۔
تو آج کے دور میں جو لوگ بھی معرکہِ حق و باطل سے لاتعلق ہیں وہ اپنا انجام سمجھ لیں۔
ڈاکٹر علی شریعتی کا جملہ اس صورتحال پر تطبیق کرتا ہے
“اگر تم حق کا ساتھ نہیں دے رہے تو تاریخ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم مسجد میں ہو یا طوائف کے حجرے میں”
والسلام۔

